اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، ریڈیو فرانس نے رپورٹ کیا مذکورہ فرانسیسی شہری بین الاقوامی پانیوں میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں گرفتار ہونے کے پانچ دن بعدجمعے پیرس کے ہوائی اڈے واپس پہنچے ہیں۔ انسان حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکن ایسے وقت میں واپس لوٹے ہیں ان کی گرفتاری کے دوران صہیونیوں کے پرتشدد رویے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر شائع ہوئی ہیں۔
سبرینا عزیزی، جو غزہ کے لیے روانہ ہونے والے بحری بیڑے کی ساتھیوں میں سے ایک تھی، نے اپنے اور اس کے دوستوں کے ساتھ ہونے والے تشدد کو بیان کیا: ایک موقع پر، وہ ہمیں زبردستی ایک تاریک کمرے میں لے گئے جہاں ہمیں کچھ نظر نہیں آرہا تھا۔ وہاں ہم میں سے ہر ایک کو مختلف اذیتوں کا نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے مجھے انجکشن لگایا گیا جبکہ بعض ساتھیوں کو مار مار کر زخمی کردیا۔
اگرچہ کچھ لوگوں نے قیدیوں کے خلاف جنسی تشدد کی مذمت کی ہے، عزیزی کا کہنا ہے کہ اس نے لوگوں کو ناگفتہ بہ حالت میں دیکھا ہے جہاں یہ واضح نہیں تھا کہ آیا ان پر جنسی تشدد کیا گیا ہے یا نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ دو دن تک ہم نے کنٹینرز کے اندر سے لوگوں کے چیخنے چلانے کی آوازیں سنی ہیں۔
2025 میں فلوٹیلا کے ساتھ سفر کرنے والی گيزلاین کبولی کا خیال ہے کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں اس سال اسرائیلی فوج کی طرف سے تشدد کا اس سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ پچھلے سال ان کے بہت سے ساتھیوں کی تذلیل اور توہین کی گئی تھی لیکن انہیں اس طرح کی مار پیٹ کا نشانہ نہیں بنایا گيا تھا۔
ریڈیو فرانس کا کہنا ہے کہ کچھ لوگوں نے شرمندگی کی وجہ سے بات نہ کرنے کا فیصلہ کیا اگرچہ گزشتہ سال بھی جنسی تشدد کے واقعات پیش آئے تھے لیکن اس سال کے واقعات میں تشدد اور سفاکیت اور بھی زیادہ تھی۔
آپ کا تبصرہ